زاہدین تعریف سے رنجیدہ (پندرھواں باب)

زاہدین تعریف سے رنجیدہ کے عنوان سے پندرھویں باب میں  حکمت نمبر 146 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں دوسری اور تیسری قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا :-
146) الزُّهَّادُ إِذَا مُدِحُوا انْقَبَضُوا لِشُهُودِهِمُ الثنَاءَ مِنَ الخَلْقِ ، وَالْعَارِفُونَ إِذَا مُدِحُوا انْبَسَطُوا لِشُهُودِهِمْ ذَلِكَ مِنَ المَلِكِ الحَق.
زاہدین – جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تو وہ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ تعریف کومخلوق کی طرف سے دیکھتے ہیں۔ اور عارفین : جب ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ تعریف کو بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھتے ہیں۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ عابدین و زاہدین:۔ چونکہ یہ لوگ مخلوق کے دیکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے مشاہدہ سے محجوب ہیں۔ اس لئے جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تو وہ اس کو مخلوق کی طرف سے سمجھتے ہیں۔ اور فرق کے سبب جمع کے مقام سے دور رہ گئے ہیں۔
اس لئے وہ رنجیدہ ہوتے ہیں۔ اور اپنے نفس کے لئے ڈرتے ہیں۔ کہ وہ اس سے دھوکا نہ کھا جائے۔ اور اس میں مشغول نہ ہو جائے اور لوگ ان طریقوں پر عمل کرتے ہیں جن کے ذریعے نفس مردہ ہو جائے اور قلب زندہ ہو جائے ۔ اور اس میں کچھ شک نہیں ہے۔ کہ تعریف میں نفس کا زیادہ حصہ ہے۔ اس وجہ سے اکثر اوقات وہ مدح وثنا کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اور اپنے کو دوسروں سے افضل واعلی سمجھ لیتا ہے۔ پھر یا اس کے لئے تکبر اور خود پسندی کا سبب بن جا تا ہے اور یہی دونوں تمام گناہوں کی جڑ ہیں۔
لیکن مذمت ، تو نفس کے لئے اس میں کچھ فائدہ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مذمت میں اس کی موت ہے اور اس کی موت میں قلب کی زندگی ہے۔ پس اسی وجہ سے جب ان کی تعریف کی جاتی ہے تو وہ رنجیدہ ہوتے ہیں اور جب ان کی برائی بیان کی جاتی ہے۔ تو وہ خوش ہوتے ہیں۔
اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) اتناہی کہہ کر خاموش ہو گئے ۔ گویا کہ اتنے ہی سے مفہوم حاصل ہو جائے گا۔ لیکن عارفین واصلین : تو اس وجہ سے کہ وہ اپنے نفوس سے فنا ہو چکے ہیں۔ اور اپنے رب کے ساتھ باقی ہو گئے ہیں۔ بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ کے مشاہدہ میں مخلوق سے غائب ہو گئے ہیں۔ جب ان کی مدح وثنا کی جاتی ہے۔ تو وہ مخلوق کی زبان کو اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھتے ہیں۔ اور عین فرق میں جمع کو دیکھتے ہیں۔ لہذا وہ اپنے مولائے حقیقی کی تعریف سے خوش ہوتے ہیں اور خوشی کی حالت میں اپنے دوست کے نزدیک رہتے ہیں۔ پھر اس کی محبت اور شوق میں بڑھتے جاتے ہیں اور اس کی محبت اور عشق میں فنا ہو جاتے ہیں۔
اور ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حدیث وارد ہوتی ہے :۔ إِذَا ‌مُدِحَ ‌الْمُؤْمِنُ فِي وَجْهِهِ رَبَا الْإِيمَانُ فِي قَلْبِهِ
جب مومن کی تعریف کی جاتی ہے۔ تو ایمان اس کے قلب میں پوری طرح ترقی کرتا ہے۔
اور جب عارفین کی مذمت کی جاتی ہے۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی قہریت کے ماتحت سکون اور اس کے جلال کے ساتھ ادب کا لحاظ رکھتے ہوئے رنجیدہ ہوتے ہیں۔ اور یہ رنج ، بدگوئی کی نسبت مخلوق کی طرف ہونے کی حیثیت سے اس کے نا پسند ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ کیونکہ وہ لوگ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ساتھ گردش کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور اس کی نشانی یہ ہے۔ کہ وہ لوگ مذمت (بد گوئی)کرنے والے کو معاف کر دیتے ہیں۔ بلکہ اس پر مہربانی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ محبت سے دوستانہ سلوک کرتے ہیں۔ جیسا کہ ایک عارف شاعر نےکیا ہے:
رُبَّ رَامٍ لى بِأَحْجَارِ الأذى لَمْ أَجِدُ بُدّا مِنَ الْعَطْفِ عَلَيْهِ
اکثر تکلیف کے پتھروں سے مجھ کو مارنے والے ایسے ہیں ۔ کہ ان کے اوپر مہربانی کرنے کے سوامیرے پاس کوئی تدبیر نہیں ہے۔
فعَسَى يَطْلُعُ اللَّه عَلَى فَرَح الْقَوْمِ فَيُدْنِينِي إِلَيْهِ
تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی خوشی سے آگاہ ہو کر مجھے اپنے قریب کرلے ۔
میں اکثر اپنی بد گوئی کرنے والوں کے ساتھ مہربانی کرتا ہوں ۔ تا کہ ممکن ہے کہ میری بدگوئی سے ان کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ ان کی خوشی سے آگاہ ہو کر اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنے قریب کرلے )
اور دوسری تشریح میں یہ ہے :- تعریف اور بدگوئی کے اعتبار سے لوگوں کی چار قسمیں ہیں :
پہلی قسم : جاہل عوام دوسری قسم :- عابدین وزاہدین تیسری قسم مریدین سالکین۔ چوتھی قسم ۔ عارفین واصلین۔
پہلی قسم جاہل عوام : ان کے نفوس ، ان کے اوپر غالب ہیں اور محسوس کا دائرہ ان کو گھیرے ہوئے ہے۔ ان کے پیش نظر مخلوق ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طلب سے غافل ہیں ۔ جب ان کی تعریف کی جاتی ہے اور مخلوق ان کی طرف بڑھتی ہے تو وہ اچھی مراد کے پانے اور اچھی فرض کے حاصل کرنے کی وجہ سے خوش ہوتے اور اتراتے ہیں۔ اور امیری دسرداری سے محبت نفس امارہ کی فطری ( پیدائشی ) خواہش ہے اور جب ان کی برائی بیان کی جاتی ہے اور مخلوق ان کی طرف سے منہ پھیر لیتی ہے۔ تو وہ اپنی امیدوں کے ناکام ہونے کی وجہ سے ناراض اور رنجیدہ ہوتے ہیں۔ تویہی لوگ ہیں جن کے قلوب نور سے خالی ہیں۔
دوسری قسم : عابدین و زاہدین :- تو وہ لوگ عبادت میں کوشش کرنے والے مخلوق سے دور رہنے والے اللہ تعالی کی رضا مندی کے طلب گار لوگوں سے متنفر اور مایوس ہوتے ہیں۔ تو جب لوگ مدح وثنا کے ساتھ ان کی طرف بڑھتے ہیں تو وہ پریشان اور رنجیدہ ہوتے ہیں۔ اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ان کو اپنے میں مشغول کر کے ان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل نہ کر دیں۔ اور جب لوگ ان کی برائی بیان کرتے ہیں۔ اور مخلوق ان کی طرف سے منہ پھیر لیتی ہیں۔ تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اب وہ عبادت کے لئے فارغ ہو جاتے ہیں۔ اور اس مجاہدہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ جس میں وہ مشغول ہے۔
تیسری قسم مریدین سالکین :- تو وہ لوگ اپنے نفوس کی موت اور اپنے قلوب کی زندگی کے لئے عمل کرتے ہیں۔ اس لئے جب ان کی برائی بیان کی جاتی ہے اور مخلوق ان سے منہ پھیر لیتی ہے۔ تو وہ اس لئے خوش ہوتے ہیں کہ اس میں ان کے نفوس کی موت اور ان کے قلوب کی زندگی ہے۔ اور جب ان کی تعریف کی جاتی ہے۔ تو وہ اپنے نفوس کے طاقت ور ہونے اور اپنے قلوب کے کمزور ہونے کے خوف سے ناگواری محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ نفوس کی موت میں قلوب کی زندگی ہے اور نفوس کی زندگی میں قلوب کی موت ہے۔
چوتھی قسم عارفین :- تو وہ اپنے نفوس پر غالب ہو چکے ہیں۔ اور اپنے معبود کے شہود میں پہنچ چکے ہیں ۔ لہذاوہ ہرشے سے انسیت ( محبت ) رکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کو ہرشے میں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے۔ وہ ہرشے سے حصہ حاصل کرتے ہیں اور ہرشے میں اللہ تعالیٰ کی سمجھ رکھتے ہیں۔ اس لئے جب ان کی تعریف کی جاتی ہے ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خوش ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ تعریف کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اللہ تعالیٰ کی طرف مشاہدہ کرتے ہیں اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعریف سےزیادہ محبوب کوئی نہیں ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے۔ اور جب ان کی برائی بیان کی جاتی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے جلال کے ساتھ ادب کا لحاظ کرتے ہوئے یا اللہ تعالیٰ کے بندوں پر شفقت کے خیال سے ناگواری محسوس کرتے ہیں :۔ مَنْ عَادَى لِي وَلي فَقَدْ اذنته بِالْحَرْبِ ) جس شخص نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میں نے اس کے ساتھ جنگ کا اعلان کر دیا۔ پس ان کا بسط (خوشی) بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اور ان کا قبض ( ناگواری) بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے ماسوا سے بے نیاز ہیں ۔ اور اس مفہوم یعنی نفوس کی فنا کی بنا پر اُن کی تعریف ان کی ذات کے لئے ان کے اوپراللہ تعالیٰ کے انعام کو ظاہر کرنے کے لئے درست ہے۔
جیسے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ اور حضرت شیخ ابوالحسن شاذلی اور حضرت شیخ ابوالعباس مرسی اور حضرت شیخ زروق اور انہی جیسے دوسرے حضرات رضی اللہ عنھم ۔ اور ان اکا بر عارفین کی طرف سے مدح و ثنا نظم ونثر میں مشہور ہے۔ اور اسی بنا پر ان حضرات نے اس شخص کو تسلیم کیا ، جس نے ان کی مدح و ثنا بیان کی اوران کے مدح و ثنا بیان کرنے کے وقت خوشی ظاہر فرمائی۔
اور حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے اپنے شیخ ابو العباس کی تعریف میں قصیدے ہیں اور حضرت شیخ ان سے فرمایا کرتے تھے :- اللہ تعالیٰ روح القدس کے ساتھ تمہاری مدد فرمائے ۔ جیسا کہ حضرت نبی کریم علیہ الصلوة والسلام ، حضرت حسان بن ثابت سے جبکہ وہ آپ ﷺکی مدح و ثنا بیان کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ روح القدس سے تمہاری مدد فرمائے ۔ اور شیوخ کرام کی تعریف :- بہت بڑی قربت اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے وسیلوں میں سب سے زیادہ قریب وسیلہ ہے۔ اس لئے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا دروازہ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا وہ ہاتھ ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں داخل ہونے والوں کا ہاتھ پکڑ کر اس کی بارگاہ تک لے جاتا ہے۔ لہذا جس نے ان کی تعریف کی ، اس نے در حقیقت اللہ تعالیٰ کی تعریف کی :-اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :-
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهِ بے شک جو لوگ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ در حقیقت وہ صرف اللہ تعالیٰ سے
بیعت کرتے ہیں۔
اور جس شخص نے ان کو برا کہا
اسی طرح حضرت رسول کریم ﷺ کی مدح وثنا (نعت شریف)اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچنے کا بہت بڑا دروازہ ہے۔
پس اگر تمہارا اعتراض یہ ہو ۔ کہ حضرت نبی کریم ﷺ کی حديث
(أَحْثُوا الثَّرَابَ فِي أَوْ جُهِ المَادِ حِيْنَ ) تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ( دھول ) ڈال دو۔
سب کے لئے عام ہے لہذا عارفین اور غیر عارفین سب کی تعریف پر تو میرا جواب:- یہ ہے کہ یہ حدیث حرص کے سب جھوٹی تعریف پر محمول ( چسپاں ) ہو صادق ہوگا۔ جیسا کہ عہدہ اور دولت کی حرص میں بادشاہوں اور دولت مندوں کی تعریف کی جاتی ہے۔ یا یہ حدیث ان کے اوپر محمول ہوگا ۔ جو اپنے نفس کے ساتھ باقی ہیں ۔ اور اس پر غافل ہونے کا خوف رکھتے ہیں۔ جیسے عابدین اور زاہدین۔ لہذا جب کوئی شخص ان کی تعریف کرے۔ تو انہیں چاہیئے کہ اس کو روک دیں ۔ اور اس کے منہ میں دھول ڈال دیں۔ اور دھول ڈالنا حقیقتا فر مایا گیا ہے۔ یا اس کی تعریف کو نا کامی کے ساتھ رد کرنے اور روک دینے سے کنا یہ کیا گیا ہے۔
لیکن عارفین متقین ( حقیقت میں ثابت اور قائم ہو جانے ولے ) وہ ایسے لوگ ہیں ۔ کہ انہوں نے ممدوح (جس کی تعریف کی جاتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ) کو پہچان لیا۔ اور وہ تعریف کرنے والے اور تعریف کئے جانے والے کے درمیان واسطہ کے دیکھنے سے غائب ہو چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذکر سے ہم کو فائدہ پہنچائے اورہم کو ان کے زمرے میں شامل کرے۔ آمین۔
پھر کمال کی علامت : آٹھ خصلتوں میں یعنی تعریف اور بد گوئی ، عزت اور ذلت قبض اور بسط منع اور عطا ، ( محرومی اور بخشش ) میں اعتدال کو قائم رکھنا اور احوال کا برابر اور مضبوط رہنا ہے اور ان میں سے بعض خصلتوں کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں