صدق کا طلب کیا جانا (بارھواں باب)

صدق کا طلب کیا جانا کے عنوان سے بارھویں باب میں  حکمت نمبر 121 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
لیکن اے فقیر ! تمہارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ تم اس فائدے کی طرف توجہ کرو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالی کا فضل اس شخص کے لئے بہت ہے۔ جواپنی ہمت اللہ عزوجل کی طرف بلند کرتا ہے۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو اپنے اس قول میں واضح فرمایا ہے:
121) مَتى طَلَبْتَ عِوَضاً عن عَمَلٍ ، طُولِبْتَ بِوُجُودِ الصِّدقِ فِيهِ وَيَكْفي المُرِيبَ وِجْدَانُ السَّلامَةِ.
اگر تم ایسے عمل پر بدلہ چاہتے ہو۔ جس میں تم سے صدق طلب کیا گیا ہے تو تم یہ سمجھ لو۔ کہ ملزم کے لئے سزا سے سلامت رہنا ہی کافی ہے ۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ جب تم سے اعمال صالحہ میں سے کوئی عمل صادر ہو۔ اور تم یہ چا ہو کہ اللہ تعالی اس عمل خیر پر تم کو بدلہ دے۔ جس میں اللہ تعالی نے تم سے صدق طلب کیا ہے۔ اور صدق: اخلاص کا سر اور اس کا مغز ہے۔ اور وہ اختیار اور قوت سے بری ہو جاتا، اور نفس کا حضور کے ثابت ہونے کے بعد اپنے عمل کے دیکھنے سے بالکل کنارہ کش ہو جاتا، اور وسوسوں اور خطروں سے پاک ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ تمہاری نماز اللہ تعالی کے ساتھ ، اور اللہ تعالی کے لئے ہو جائے۔ اور تم اس نماز میں اللہ تعالی کے ماسوی سے غائب ہو جاؤ ۔ تمہارا قلب اللہ تعالی کی عظمت سے اس طرح بھر جائے ۔ کہ تم اللہ میں اللہ کے ساتھ غائب ہو جاؤ۔ پس اگر یہ امور تمہارے اندر ثابت اور قائم ہو جا ئیں تو تمہارے لئے اللہ تعالی سے دو اجر ( بدلہ ) طلب کرنا درست ہے۔ جو اس نے عمل پر مرتب فرمایا ہے۔ اور اگر تمہارے نفس میں یہ امور ثابت اور قائم نہیں ہوئے ہیں۔ تو جان لو کہ تمہاراعمل مدخول ہے۔ اس لئے تم اس پر اللہ تعالی سے شرم کرو کہ تم مدخول عمل کا بدل چاہتے ہو۔ پس تمہارے لئے بدلہ اور حصول مقصد کے طور پر ہلاکت اور تباہی سے تمہار ا سلامت رہنا ہی کافی ہے۔ کسی ملزم کے لئے عائد شد ہ الزام کی سزا سے نجات پانا ہی کافی ہے۔ کیونکہ جو شخص بادشاہ کے نزدیک ملزم ہو۔ اور وہ عائد شدہ الزام کی سزا کے لئے قید میں ہو۔ اگر اس سے یہ کہا جائے کہ تم کو بادشاہ ایسی بخشش اور ایسا انعام عطا کرے گا۔ تو وہ اس کہنے والے کو یہی جواب دے گا۔ کہ میرے لئے بادشاہ کی یہی بخشش کافی ہے کہ مجھے اس کی سزا سے نجات مل جائے۔
اور اے انسان! تجھ سے اعمال، اور ان میں اخلاص ، اور ان کا مضبوط کرنا اور ان کی اقامت کو مکمل کرنا، طلب کیا گیا ہے۔ اور تو خطروں اوروسوسوں سے ملی ہوئی طاعت لے کر آیا ہے۔ اور اگر بالفرض تیرے اعمال خطروں اور وسوسوں سے پاک بھی ہوں۔ پھر بھی تیرا بدلہ ملنے کی خواہش کرنا۔ اپنے نفس کے دیکھنے، اور فعل کا صادر ہونا ، اپنی طرف سے سمجھنے کی دلیل ہے۔ اور یہ شرک ہے۔ اور اس کے لئے تو سزا کا مستحق ہے۔ تو اسکی سزا سے نجات پانا ، اس کی یہی بخشش تیرے لئے کافی ہے۔
حضرت واسطی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے: اللہ تعالی سے معافی طلب کرنے کے لئے عبادت کا بدلہ چاہنے کے لئے عبادت سے افضل ، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ قریب کرنے والی ہے۔ حضرت خیر نساج رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے تمہارے اعمال کی میراث وہ ہے جو تمہارے افعال کے لائق ہو۔ تو تم اللہ تعالیٰ کے فضل کی میراث طلب کرو۔ کیونکہ وہ زیادہ مکمل اور بہتر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ
آپ فرمادیجئے! اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت ہی سے لوگوں کو خوش ہونا چاہیئے ۔ یہ اس سے بہتر ہے جو لوگ جمع کرتے ہیں ۔
اور حضرت خیر نساج رضی اللہ عنہ کے کلام کا مفہوم یہ ہے تمہارے اعمال کی اجرت تمہارےناقص اعمال ہی کے مطابق ہوگی۔ اور ناقص کا بدلہ بھی ناقص ہی ہوتا ہے۔ اس لئے تم اللہ تعالی سے اس کے فضل کا نتیجہ مانگو۔ کیونکہ وہ ہر طرح سے کامل ومکمل ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں