عاجزی طلب کی سیڑھی (تیرھواں باب)

عاجزی طلب کی سیڑھی کے عنوان سے تیرھویں باب میں  حکمت نمبر 129 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے اس قول میں اس سے آگاہ فرمایا ہے۔
129) ما طَلَبَ لكَ شَيْءٌ مِثْلُ الاضْطِرارِ، وَلا أَسْرَعَ بِالمَواهِبِ إلَيْكَ مِثْلُ الذِّلَّةِ والافْتِقارِ.
تمہاری عاجزی اور محتاجی کے مثل کوئی شے تمہارے لیے طلب نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخششوں تک بہت جلد پہنچانے والی ذلت اور محتاجی کے مثل کوئی بھی نہیں ہے
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ عارفین کی طلب صرف زبان حال سے ہوتی ہے نہ کہ زبان قال سے کیونکہ ان کو اللہ تعالی نے اپنی معرفت میں ثابت قدمی سے قائم کیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کی تکلیف میں اس کے احسان کا اور اس کی سختی میں اس کی نعمت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے جب اللہ تعالی ان کے سامنے قوت اور جلال کے ساتھ تجلی فرماتا ہے۔ تو وہ کمزوری اور عاجزی کے ساتھ اس کا استقبال کرتے ہیں تب وہ ان کے سامنے اپنے اسم پاک جمیل کے ساتھ تجلی فرماتا ہے پھر ان کو ہر بہتر اور خوبصورت شے عطا فرماتا ہے اور جب ان کے سامنے اپنے اسم پاک عزیز یاقہار کے ساتھ تجلی کرتا ہے تو وہ اس کا سامنا ذلت اور محتاجی کے ساتھ کرتے ہیں پھر ان کے اوپر بہت زیادہ نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ پس اے عارف:- جب تم اللہ تعالی سے کسی شے کے حاصل کرنے یا دور کرنے کیلئے طلب کرنے کا ارادہ کرو تو مجبوری اور محتاجی کو اپنے اوپر لازم کرو ۔ اور اضطرار (مجبور ومحتا جی) یہ ہے کہ وہ دریا میں ڈوبنے وا لے یا چٹیل میدان میں راستہ بھولے ہوئے کی طرح مجبور اور پریشان ہو اور اپنی فریادرسی کیلئے اپنے مولائے حقیقی کے سوا کسی کی طرف نہ دیکھتا ہو اور اپنی ہلاکت اور تباہی سے نجات کیلئے اس کے سوا کسی سے امید نہ رکھتا ہو۔ پس تمہارے لیے اللہ تعالی سے طلب :- اس کے سامنے تمہاری مجبوری اور محتاجی اور اس کے سامنے غلاموں کی صورت سے کھڑے ہونے کی مثل کوئی شے نہیں ہے بس اسی وقت تم جو کچھ بھی چاہتے ہو تم کومل جائے گا۔ جیسا کہ ایک عارف شاعر نے فرمایا ہے:۔
ادَبُ الْعِبِيدِ تَذلُّلٌ وَالْعَبْدُ لَا يَدَعُ الْأَدَبُ
غلاموں کا ادب ذلت اور عاجزی ہے، اور غلام ادب کو بھی نہیں چھوڑتا ہے
فَإِذَا تَكَامَلَ ذُلُّهُ نَالَ الْمَوَدَةَ وَاقْتَرَبَ
تو جب اس کی ذلت اور عاجزی مکمل ہو جاتی ہے تو وہ دوسری کو حاصل کر لیتا اور قریب ہو جاتاہے
اور دوسرے عارف شاعر نے فرمایا ہے:۔
وَمَا رُمْتُ الدُّخُولَ عَلَيْهِ حَتَّى حَلَلْتُ مَحِلَّةَ الْعَبْدِ الذَّلِيلِ
میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس وقت داخل ہوا جب میں ذلیل غلام کے مقام میں قائم ہوا
وَاغْضَيْتُ الْجُفُونَ عَلَى قَذَاهَا وَصُنْتُ النَّفْسَ عَنْ قَالَ وَقِيلَ
اور میں نے پلکوں کو ان کی تکلیف پر بند کر لیا (یعنی بیداری کی تکلیف کو برداشت کیا ) اور اپنے نفس کو قیل وقال ( زیادہ بات چیت ) سے بچایا اگر تم اپنے اوپر عطاؤں کا نزول چاہتے ہو اور عطا میں علوم لدنی اور اسرار ربانی ہیں تو ذلت اور محتاجی کے مثل اللہ حلیم و غفار کے سامنے پہنچانے والی کوئی شے نہیں ہے اور یہ ذلت اور محتاجی قلب اور جسم دونوں سے ہونی چاہیئے اور جب تم ذلت اور محتاجی میں مکمل ہو جاؤ تو اب تمہارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم عطاؤں اور مرتبوں کے پانے کیلئے تیار رہو۔
اللہ تعالی نے فرمایا ہے۔ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ صدقات فقیروں اور مسکینوں کیلئے ہیں
اور اللہ تعالی نے دوسری جگہ فرمایا: امن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَا کون ہے جو مجبوراور عاجز کی دعا کو قبول کرتا ہے، جب وہ دعا کرتا ہے نیز اللہ تعالی نے تیسری جگہ فرمایا: وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَانتُمْ أَذِلَّة اور الله تعالى نے میدان بدر میں تمہاری مدوفرمائی، حالانکہ تم ذلیل اور کمزور تھے
اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا ہے :-
إِنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَإِنَّ الْفَرْجَ مَعَ الْكَرْبِ ، وَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
بیشک صبر کے ساتھ مدد ہے اور مصیبت کے ساتھ آرام ہے اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے
حضرت سہل بن عبد اللہ نے فرمایا ہے :۔ بندہ جب کسی شے کیلئے اللہ تعالی کی طرف سے محتاجی ظاہر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:۔ اگر وہ ایسا نہ ہوتا، کہ وہ میرے کلام کو برداشت نہیں کر سکتا ہے تو البتہ میں اس کو لبیک لبیک (حاضر ہوں ، حاضر ہوں ) کہہ کر جواب دیتا تو اگر تم احباب کے ساتھ داخل ہونا چاہتے ہو تو ذلیل اور حقیر بن کر دروازے پر کھڑے رہو۔ یہاں تک کہ تمہارے اور احباب کے درمیان سے بغیر تمہاری تدبیر اور اسباب کے حجاب اٹھ جائے اور یہ صرف اللہ تعالیٰ وہاب کا فضل ہے۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں