مخلوق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم (چودھواں باب)

مخلوق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم کے عنوان سے چودھویں باب میں  حکمت نمبر 141 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
کل اشیاء اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہیں۔ اس نے ان کو اس لئے قائم کیا ہے۔ تا کہ وہ ان کے ساتھ پہچانا جائے۔ پھر اس نے ان کو اپنی وحدانیت سے مٹا دیا۔ جیسا کہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا :-
141) الأَكْوَانُ ثَابِتَةٌ بِإِثْبَاتِهِ ، وَمَمْحُوَّةٌ بِأَحَدِيَّةِ ذَاِتِه .
کائنات اللہ تعالیٰ کے اثبات کے ساتھ ثابت و قائم ہیں۔ اس کی ذات کی احدیت کے ساتھ نیست و نابود ہیں۔ میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:- اکوان ( کائنات ) :- وہ ہے جو عالم شہادت (ظاہری دنیا ) میں ظاہر ہوئی۔
یا تم اس طرح کہو:۔ جو عالم خلق میں داخل ہے۔
اور وہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے ساتھ موجود اس کے ساتھ قائم اور اسی کے ثابت کر نے سے ثابت ہے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اس کے ذریعے حاصل کی جائے اور کائنات اس کی احدیت کے سامنے نیست و نابود ہے۔ تو جس شخص نے اس کو اس کی ذات سے ثابت کیا۔ اس نے اس میں جہالت کی ۔ اور جس شخص نے اسکو اللہ کے ساتھ ثابت کیا۔ اس نے اس میں اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی اور اس میں اپنے مولائے حقیقی کا مشاہدہ کیا۔ لہذا کا ئنات کا قیام عرضی امر ہے۔
( عرض :- وہ ہے۔ جس کا وجود اور قیام دوسرے کے وجود اور قیام پر موقوف ہو ) یعنی اپنے وجود اور قیام کے لئے وہ دوسرے کا محتاج ہوئی اور اللہ تعالیٰ ، لازم (واجب) ہے۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی احدیت کا وجود ہے۔
اور احدت – وحدت میں مبالغہ ہے۔ اور احدیت اس وقت ثابت ہوتی ہے۔ جبکہ وحدت اس انتہائی حیثیت ( درجہ ) میں ہو۔ کہ اس سے زیادہ مضبوط اور زیادہ کامل ہونا ثابت نہ ہو۔ پس اس کی حقیقت کا تقاضا ،کائنات کا مٹ جانا، اور باطل ہو جانا ہے۔ اس طریقے پر کہ وہ موجود نہ ہو۔ کیونکہ اگر وہ موجود ہوگی ۔ تو احدیت نہ ہوگی ۔ پھر اس صورت میں اللہ دو یا کئی ایک ہو جائے گا۔
جیسا کہ کسی عارف شاعر نے کہا ہے:۔
أَرَبُّ وَ عَبْدٌ وَ نَفَىُ ضِدٍّ قُلْتُ لَهُ لَيْسَ ذَاكَ عِنْدِي
کیا ربوبیت کی ضد کی (مقابل کی نفی کے باوجود رب اور بندہ دونوں موجود ہو سکتے ہیں؟میں نے اس سے کہا:۔ میرے نزدیک ایسا نہیں ہو سکتا ہے۔
فَقَالَ مَا عِندَكُمْ فَقُلْنَا وُجُودُ فَقْدٍ وَ فَقدُ وُجْدٍ
تو اس نے کہا: تمہارے نزدیک کیا ہے۔ تو میں نے کہا:۔ نیستی کا وجود اور وجود کی نیستی ہے (نہ ہونے کا ہونا اور ہونے کا نہ ہونا ہے)
تَوْحِيدُ حَقٍّ بِتَرْكِ حَقٍّ وَلَيْسَ حَقٌّ سِوَایَ وَحْدِ
حق تعالیٰ کی تو حید غیر کاحق ترک کرنے میں ہے۔ اور میرے تنہا کے سوا کوئی حق موجود نہیں ہے۔
شاعر کےکلام کا مفہوم یہ ہے:۔ اس شخص کی بات کی تردید کر رہے ہیں۔ جس نے فرق کو، اس طریقے پر ثابت کیا ہے۔ کہ اُس نے عبودیت کے لئے مستقل مقام قرار دیا ہے۔ جور بوبیت کی حقیقتوں کے اسرار سے جدا ہے اور بذات خود قائم ہے۔ اور اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ اس فرق کی بنا پر عبودیت ، ربوبیت کا اوصاف کی ضد ہو جاتی ہے۔ اور تم حق سبحانہ تعالیٰ کی توحید کے بارے میں کہتے ہو۔ توحید کی کوئی ضد نہیں ہے پس تم نے اپنے قول کی خود تردید کر دی۔ اسی بنا پر شاعر نے فرمایا:- ضد کی نفی کیساتھ تو پہلے شعر کے پہلے مصرعہ میں واؤ معیت کے معنی میں ہے۔ اور وہ انکار میں داخل ہے۔ یعنی کیا رب اور بندہ ر بوبیت کی ضد کی نفی کے ساتھ مستقل طورپر موجود ہو سکتے ہیں۔ حالانکہ عبودیت، ربوبیت کے اوصاف کی ضد ہے؟ اور صحیح یہ ہے : حق سبحانہ تعالیٰ فرق کے اجسام میں جمع کے مظاہر کے ساتھ جلوہ گر ہوا ۔ اور عبودیت کے اجسام کے ظاہر کرنے میں ربوبیت کی عظمت کے ساتھ ظاہر ہوا۔ پس اس کے اور جواب میں شاعر کا یہ قول : نیستی کا وجود یعنی ماسوای کی نیستی کا وجود ساتھ کوئی شے نہیں ہے۔
اور نفس کے وجود کا نیست ہوتا ہے۔ اور شاعر کا یہ قول : حق تعالیٰ کی توحید کے ترک کرنے میں ہے۔
یعنی حق تعالیٰ کی سچی تو حید ، غیر اللہ کا حق ترک کرنے میں ہے۔ اور غیر اللہ موجود بھی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے شاعر نے فرمایا:- تنہا میرے وجود کے سوا کوئی حق موجود نہیں ہے۔ شاعر نے فنا کی زبان میں یہ کلام فرمایا ہے۔ واللہ تعالی اعلم
اور دوسرے عارف شاعر نے فرمایا ہے :-
سِر سَرَى مِنْ جَنَابِ القُدْسِ أَفْنَانِي لَكِنْ بِذَاكَ الْفَنَى عَنِى قَدْ أَحْيَانِي
بارگاہ قدس کے ایک راز نے میرے اندر سرایت کر کے مجھ کو فنا کر دیا۔ لیکن میرے وجود کے اس فنا کے ذریعے مجھے کو زندہ تا ہے۔ اور شاعر کا یہ قول : حق تعالیٰ کی توحید کے ترک کرنے میں ہے۔
یعنی حق تعالیٰ کی سچی تو حید ، غیر اللہ کا حق ترک کرنے میں ہے۔ اور غیر اللہ موجود بھی نہیں ہے۔ اسی وجہ سے شاعر نے فرمایا:- تنہا میرے وجود کے سوا کوئی حق موجود نہیں ہے۔ شاعر نے فنا کی زبان میں یہ کلام فرمایا ہے۔ واللہ تعالی اعلم
اور دوسرے عارف کر دیا ۔
وَرَدَّنِي لِلْبَقَاءِ حَتَّى أَعَبَّرَ عَنْ جَمَالِ حَضْرَتِهِ لِكُلِّ هَيْمَانِ
اور اس نے مجھ کو بقا کی طرف پہنچا دیا۔ یہاں تک کہ میں ہر محبت میں سرگرداں شخص سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کا جمال بیان کرتا ہوں۔
وَصِرْتُ إِلَى مَلَكُوتِ مِنْ عَجَائِبِهِ لَمْ اَلْفِ غَيْرَ وُجُودٍ مَالَهُ ثَانِي
اور میں اس کے عجائبات کے ملکوت میں پہنچ گیا۔ میں نے اس ذات کے سوا کچھ نہیں پایا جووحدہ لا شریک ہے
اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) رضی اللہ عنہ نے اپنی کتاب لطائف المنن میں اپنے برادران طریقت میں سے ایک شخص کو جن کا نام حسن ہے۔ وصیت کرتے ہوئے فرمایا:-
حَسَنٌ بِانْ تَدَعُ الْوُجُودَ بِاسْرِہ حَسَنٌ فَلَا يُشْغَلْكَ عَنْهُ شَاغِلُ
اے حسن ! تمہارے لئے مناسب یہ ہے کہ تم وجود کو بالکل چھوڑ دو۔ اے حسن ! کوئی مشغول کرنے والی شے تم کواللہ تعالیٰ سے غافل نہ کرے۔
وَلَئِنْ فَهِمْتُ لَتَعْلَمَنَّ بِانَّهُ لَا تَرَكَ إِلَّا لِلَّذِي هُوَ حَاصِلُ
اور اگر تم سمجھ چکے ہو۔ تو اچھی طرح جان لو کہ یہ وجود کا ترک کرنا اس ذات پاک کے لئے ہے، جوحاصل ہے۔ (یعنی مقصود ہے، یا موجود ہے۔ )
وَمَتىٰ شَهِدْتَ سِوَاهُ فَاعْلَمُ أَنَّهُ مِنْ وَهْمِكَ الْأَدْنَى وَقَلْبُكَ ذَاهِلُ
اور جب تم نے اللہ تعالیٰ کے ماسوا کو دیکھا۔ تو جان لو کہ یہ تمہارا حقیر وہم ہے۔ اور تمہارا قلب غافل ہے۔
حَسْبُ الإلهِ شُهُودُهُ لِوُجُودِهِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا يَقُولُ الْقَاتِلُ
اللہ تعالیٰ کا اپنے وجود کو دیکھنا ، اس کے لئے کافی ہے۔ اور کہنے والا جو کچھ کہتا ہےاللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے
وَ لَقَدْ أَشَرْتُ إِلَى الصَّرِيحِ مِنَ الْهُدَى دَلَّتْ عَلَيْهِ إِنْ فَهِمْتَ دَلَائِلُ
اور البتہ میں نے واضح ہدایت کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔ تو دلائل نے اس کی طرف رہنمائی کر دی ہے۔
وَحَدِيثُ كَانَ وَلَيْسَ شَيْءٌ دُونَهُ يَقْضِي بِهُ الْآنَ اللَّبِيبُ الْعَاقِلُ
اس بات سے کہ اللہ تعالیٰ تھا اور اس کے سوا کوئی بھی نہ تھی ۔ صاحب بصیرت عقلمند فیصلہ کر سکتا ہےکہ اس وقت اس کے ساتھ کوئی شے موجود ہے یا نہیں ۔
لَا غَروَ إِلَۤا نِسْبَةِ مَثْبُوتَۃّ لِیُذَمَّ ذُو تَرْکٍ وَيُحْمَدُ فَاعِلُ
تعجب کی بات نہیں ہے بلکہ ثابت شدہ نسبت ہے تا کہ اس نسبت کو ترک کرنے والے کی مذمت کی جائے اور اس کو قائم رکھنے والے کی تعریف کی جائے۔
یہاں چودہواں باب ختم ہوا۔
خلاصہ اس کا حاصل یہ ہے ۔بندوں کے اندر اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کرنا ، اور اللہ سبحانہ تعالی کے کرم و احسان اور انتہائی مہربانی اور بخشش کا ذکر کر کے بندوں کے دل میں اس کی محبت پیدا کرنا ہے۔ اور وہ احسان و کرم یہ ہے:۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہم کو طاعت اور عمل کی توفیق عطا کر کےہمارے اوپر احسان کیا۔ پھر دوسری مرتبہ ۔ باوجود اس کے کہ ہمارے عمل میں نقص اور خلل شامل تھا۔ اس کو قبول کر کے ہمارے اوپر فضل و کرم کیا۔ پھر جب ہم سے کوئی نا فرمانی یا لغزش سرزد ہوتی ہے۔ تو اپنی پردہ پوشی اور مغفرت سے ہم کو ڈھانپ لیتا ہے پھر جب ہم اس کی طرف حضور قلب کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں ، تو معصیت اور ہمارےد رمیاں پردہ ڈال کر ہماری حفاظت فرماتا ہے۔ تا کہ ہمارا مرتبہ بڑھائے اور ہمارا شکرظاہر فرمائے۔
پھر ہم اس کو اپنا ساتھی بناتے ہیں اور اس کے غیر کو کنارہ کش ہو کر چھوڑ دیتے ہیں ۔ تو اب ہمارے قلوب میں یقین کے انوار روشن ہوتے ہیں۔ اور ہم بہت ہی کم وقت میں آخرت کی طرف سفر کرتے ہیں۔ پھر ہمارے اوپر احسان کے انوار روشن ہوتے ہیں۔ تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے نور کےمشاہدے کے سبب کائنات کا دیکھنا ہمارے لئے پوشیدہ ہو جاتا ہے۔ تب اس وقت اللہ تعالیٰ بندوں کے سامنے ہماری خوبیاں ظاہر فرماتا ہے۔ تو وہ لوگ تعریف اور محبت اور دوستی کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔
حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کو پندرہویں باب کی ابتدا میں بیان فرمایا ہے


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں