نمازیں کم کرنے کی حکمت (بارھواں باب)

نمازیں کم کرنے کی حکمت کے عنوان سے بارھویں باب میں  حکمت نمبر 120 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمد عبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
نماز کا تیسرا نتیجہ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے فرمایا:
120) الصَّلاةُ مَحَلُّ المُناجاةِ
نماز بندے کی اپنے رب کے ساتھ سرگوشی کا مقام ہے ۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: مناجات کے معنی، احباب کے ساتھ چپکے چپکے بات کرنی ہے۔ (یعنی کانا پھوسی ) ۔ تو بندے کی اللہ تعالی کے ساتھ سرگوشی : تلاوت ، اور اذکار کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی اپنے بندے کے ساتھ سر گوشی سمجھ ، اور معرفت کے دروازے کھلنے، اور حجابات کے اٹھنے کے ساتھ ہوتی ہے۔ صحیح حدیث میں ہے: الْمُصَلَّى يُنَاجِي ربه نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے۔
اور حضرت نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ‌قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ اللَّهُ عز وجل: حَمِدَنِي عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} ، قَالَ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، أَوْ مَجَّدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} ، قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي، فَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} ، فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ ‌عَبْدِي، ‌وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ، {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ} ، فَهَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دیا ہے۔ اور میرے بندے کا حصہ، وہ ہے جو اس نے سوال کیا ۔ تو جب بندہ کہتا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمين سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا رب ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے نے میری تعریف کی۔ پھر جب بندہ کہتا ہے الرَّحْمنِ الرَّحِيم ، وہ مہربان اور رحم کرنے والا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری عظمت اور بزرگی بیان کی ۔ پھر جب بندہ کہتا ہے : ملك يوم الدين، وہ روز جزا کا مالک ہے تو اللہ تعالی فرماتا ہے میرے بندے نے اپنا معاملہ میرے سپرد کر دیا۔ پھر جب بندہ کہتا ہے: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھی سے مدد چاہتے ہیں۔ تو اللہ تعالی فرماتا ہے۔ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے۔ پھر جب اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ پوری آیت وَلَا الضَّالین تک ۔ ہم کو سیدھا راستہ دکھا۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ہے۔ ان لوگوں کا راستہ نہیں، جن پر تیرا غضب نازل ہوا۔ اور نہ ان لوگوں کا راستہ جو گمراہ ہیں ۔ تو اللہ تعالی فرماتا ہے:۔ یہ میرے بندے کے لئے ہے۔ اور جو میرے بندے نے طلب کیا ہے وہ اس کے لئے ہے (یعنی میں اس کو عطا کروں گا )
پس نمازی ہمیشہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا رہتا ہے۔ اور اس کا قرب طلب کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے قلب میں اس کی طرف سے محبت ، اور اللہ تعالی کی طرف سے حضور ، مضبوطی سے قائم ہو جاتا ہے پھر محبت جفاء کی کدورتوں سے صاف ہو جاتی ہے اور محبت کرنے والا ، اپنے دوست کے ساتھ صفائی کے مقام میں مل جاتا ہے۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے اس قول کا یہی مفہوم ہے جو نماز کاچوتھا نتیجہ ہے۔
چوتھا نتیجہ :۔ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے فرمایا
ومَعْدِنُ المُصافاةِ؛.اور نماز مصافات کی کان ہے۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: معدن: کے معنی ہیں ، سونا، چاندی کی کان ۔ اور یہاں ، اجسام کی کھنکھناتی ہوئی مٹی کی آلائش سے قلوب و ارواح کو صاف کرنے کی وجہ سے قلوب وارواح کی صفائی کے لئے استعارہ کیا گیا ہے۔ اور مصافات :۔ ظاہری فکر و پریشانی ، اور وسوسوں کی کدورت سے مناجات کا خالص ہوناہے۔ پس مصافات: مناجات سے زیادہ لطیف اور صاف ہے۔
حضرت ابن فارض رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے :۔
وَلَقَدْ خَلَوْتُ مَعَ الْحَبِيبِ وَبَيْنَنَا سِرارَقُ مِنَ النَّسِيمِ إِذَا سَرَا
ہرشے سے کنارہ کش ہو کر ) دوست کے ساتھ تنہا ہو گیا۔ اور اب ہمارے درمیان نسیم سحری کی لطیف رفتار سے بھی زیادہ لطیف ایک راز ہے۔ اور یہ بندے کی مصافات اپنے رب کے ساتھ ہے۔ اور اللہ تعالی کی مصافات اپنے بندے کے ساتھ ، اس کے اوپر حضور کی حالت کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کو اپنے غیر کے ساتھ نہ چھوڑے۔ اور حدیث شریف میں وارد ہے:
إِنَّ الْعَبْدَ إِذْ قَامَ إِلَى الصَّلَوةِ رَفَعَ اللَّهُ الْحِجَابَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ وَوَاجَهَهُ بِوَجْهِہ وَقَامَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ لَدُنْ منكبيه إلَى الْهَوِي يُصَلُّونَ بِصَلوتِه . بندہ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تواللہ تعالی اپنے اور اس کے درمیان سے حجاب اٹھا دیتا ہے۔ اور رو برو اس کے سامنے ہوتا ہے اور فرشتے اس کے دونوں کندھوں کے پاس سے فضا ئے ہوائی تک کھڑے ہو کر اس کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ پس جب صفائی مکمل ہو جاتی ہے۔ اور محبت بڑھتی ہے ۔ اور پیاس زیادہ ہوتی ہے اور حیرت و پریشانی ظاہر ہوتی ہے تو روح حجاب کے دور ہونے ، اور درازو کے کھلنے کی مستحق ہو جاتی ہے۔ پھر وہ احباب کی بارگاہ میں داخل ہوتی ہے۔ اور اس کے اور احباب کے درمیان سے حجاب اٹھ جاتا ہے۔ تو وہ اجسام کی تنگی سے نکل کر عالم ارواح کی فضاء میں آپہنچتی ہے۔ یا ملک کی تنگی سے نکل کر عالم ملکوت کی وسعت میں پہنچتی ہے۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے مندرجہ ذیل قول کا یہی مفہوم ہے۔ جو نماز کا پانچواں نتیجہ ہے۔
پانچواں نتیجہ:۔ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے فرمایا: تَتَّسِعُ فيها مَيادينُ الأسْرارِ نماز کے اندر اسرار کے میدان کشادہ ہوتے ہیں۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: میدان: گھوڑا دوڑنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یہاں عالم ملکوت کی فضاء کے لئے استعارہ کیا گیا ہے تو جب روح عالم ملکوت میں داخل ہوتی ہے اور اپنی فکر کے ساتھ اس کے انوار کی وسیع فضا میں دوڑتی ہے۔ تو اس کے او پر جبروت کے انوار چمکتے ہیں۔ اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) کے مندرجہ ذیل قول کا یہی مفہوم ہے۔ جو نماز کا چھٹا نتیجہ ہے۔
چھٹا نتیجہ حضرت مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے فرمایا:
، وَتُشْرِقُ فيها شَوارِقُ الأنْوارِ. اور نماز میں انوار کے سورج طلوع ہوتے ہیں۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اسرار سے ذات کے اسرار مراد لیا ہے۔ اور وہ اہل فنا کے لئے ہے۔ اور انوار سے صفات کے انوار مراد لیا ہے۔ اور وہ اہل بقا کے لئے ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔
اور مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس نماز سے وہ نماز مراد لی ہے۔ جو نمازی کو ایک حال سے دوسرے حال کی طرف ، اور ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف منتقل کرتی ہے ۔ یہ اہل غفلت کی نماز نہیں ہے ۔ نہ یہ عابدین و زاہدین میں سے اہل مجاہدہ کی نماز ہے۔ کیونکہ ان کے لئے یہ سیر نہیں ہے۔ وَاللَّهُ تَعَالٰی أَعْلَمُ ۔
حضرت ابو طالب نے فرمایا ہے. ہم سے راوی نے بیان کیا: مومن جب نماز کے لئے وضو کرتا ہے تو شیاطین اس کے خوف سے زمین کے اطراف میں اس سے دور بھاگ جاتے ہیں ۔ کیونکہ وہ بادشاہ حقیقی اللہ تعالی کے سامنے جانے کے لئے تیار ہوا ہے۔ پھر جب وہ تکبیر کہتا ہے۔ تو ابلیس اس سے چھپ جاتا ہے۔ اور نمازی اور ابلیس کے درمیان ایک پر دہ قائم کر دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ابلیس اس کی طرف نہیں دیکھتا ہے اور اللہ سبحانہ تعالی اس کے سامنے ہوتا ہے۔ پھر جب وہ اللہ اکبر کہتا ہے تو فرشتہ اس کے قلب میں نظر کرتا ہے۔ تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کے قلب میں اللہ تعالی سے بڑا کوئی نہیں ہے ۔ تب فرشتہ کہتا ہے۔ تو نے سچ کہا۔ تو جس طرح زبان سے کہتا ہے اسی طرح قلب میں بھی اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ پھر اس کے قلب میں وہ نور پھیلتا ہے جو عرش کے ملکوت سے ملا ہوتا ہے۔ پھر اس نور کے سبب اس کے سامنے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے لئے اس نور کے برابر نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
حضرت ابو طالب فرماتے ہیں: پھر راوی نے کہا ہے: غافل جاہل ، جب وضو کے لئے اٹھتا ہے۔ اس کو شیاطین اس طرح گھیر لیتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیاں شہد کے چھتے کو گھیرے ہوتی ہیں۔ پھر جب وہ تکبیر کہتا ہے۔ تو فرشتہ اس کے قلب میں نظر کرتا ہے۔ تو وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہرشے اس کے قلب میں اللہ تعالی سے بڑی ہے ۔ تب فرشتہ کہتا ہے: تو نے جھوٹ کہا ۔ جس طرح تو زبان سے کہتا ہے ۔ اس طرح تیرے قلب میں اللہ تعالیٰ نہیں ہے۔ پھر اس کے قلب سے ایسا دھواں اٹھتا ہے جو آسمان کے کنارہ سے ملا ہوتا ہے۔ اور وہ دھواں اس کے لئے ملکوت سے حجاب بن جاتا ہے۔ پھر راوی نے بیان کیا ہے۔ یہ حجاب اس کے نماز کو لوٹا دیتی ہے۔ اور شیاطین اس کے قلب کو لقمہ بنا لیتے ہیں۔ اور ہمیشہ اس میں پھونک مارتے ہیں اور وسوسہ پیدا کرتے ہیں ۔ اور یہ وسو سے اس کو مرغوب کر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی نماز سے باہر آتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں سمجھتا ہے کہ اس نے کیا کیا
پھر مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے نماز کے پانچ وقتوں میں منحصر ہونے کی حکمت بیان کی۔ چنانچہ فرمایا:
عَلِمَ وُجودَ الضَّعْفِ مِنْكَ فَقَلَّلَ أعْدادَها. الله تعالی کو تمہاری کمزوری کا علم تھا۔ اس لئے نماز کی تعداد کو کم کر دیا۔ (یعنی نماز پچاس وقت کی تھی ۔ اس کو گھٹا کر پانچ وقت کر دیا ۔ )
پس اے انسان! تمہارے اوپر یہ اللہ تعالی کی مہربانی ہے کہ وقت کے وسیع ہونے کے باوجود نماز کی تعداد کم کر دی۔ تو اس نے اپنے دن کے اول وقت میں تمہارے اوپر ایک نماز فرض کی ۔ تا کہ تم اس کے ظاہری انوار کا شکر ادا کرو ۔ جن کو اس نے تمہارے لئے ظاہر کیا۔ اور تا کہ سوکر اٹھنے کے ساتھ نماز کے لئے تمہاری حرکت کرنا ، اس غفلت کو لازمی طور پر دور کر دے، جو تمہاری لمبی نیند میں تم کو لاحق ہوئی ہے اور اس نے تمہارے اوپر ایک نماز اپنے دن کے درمیانی حصے میں فرض کی۔ تا کہ اپنی آگ کا وہ اشتعال جو اس نے اس وقت میں ظاہر کیا ہے۔ تمہارے لئے بجھا دے۔ اور اس نے تمہارے اوپر ایک نماز دن کے آخر ہونے کے قریب فرض کیا۔ تا کہ بادشاہ غفار اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہاری طاعت کا گواہ بنے ۔ اور تا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اللہ تعالی کے سامنے تمہاری نماز کے لئے گواہی دیں ۔ اور اس نے تمہارے اوپر ایک نماز رات کے اول وقت میں فرض کیا ۔ تا کہ تم رات کا اول وقت اپنی طاعت سے شروع کرو۔ جیسا کہ تم نے اپنے دن کا اول وقت طاعت سے شروع کیا۔ اور تا کہ تم رات کے ان عجائب (حوادث) سے محفوظ رہو، جن کے پیش آنے کی امید رات کی تاریکی میں کی جاتی ہے۔ پھر جب تم نے اپنے آقا سے جدا ہو کر سونے ، اور اپنے رب سے غافل ہونے ، اور اپنے بستر سے لطف اٹھانے کا ارادہ کیا۔ تو اس نے تم کو حکم دیا۔ کہ تم اس کے ساتھ اپنے حضور کی حالت میں، اس کو الوداع کہو ۔ اور اسکے ساتھ تمہاری آخری وقت تمہاری طاعت ہو۔ تو یہ سب کا سب اس کی جانب سے تم کو اپنی بارگاہ میں کھینچنے کے لئے، اور تم سے اپنے احسان کا شکر ادا کرانے کے لئے ، اور تم کو تمہارے وجود سے نکالنے کے لئے ہے ۔
عَجِبَ رَبُّكَ مِنْ قَوْمٍ يَسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ بِالسَّلَاسِلِ
تمہارے رب کو ایسے لوگوں پر تعجب ہے۔ جوز نجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جائےجاتے ہیں۔یالے جائے جائیں گے۔
اور جب نماز کی تعداد گھٹا دی۔ تو اس وجہ سے کہ اسے علم تھا۔ کہ تم اس کے احسان کے محتاج ہو۔ اس نے اپنی امداد ( یعنی ثواب ) کو بڑھا دیا ۔
مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اس کی طرف اپنے اس قول میں اشارہ فرمایا ہے:
وَعَلِمَ احْتِياجَكَ إلى فَضْلِهِ فَكَثَّرَ أَمْدَادَهَا چونکہ اللہ تعالی کو علم تھا کہ تم اس کے فضل کے محتاج ہو۔ اس لئے اس نے اپنی امداد (ثواب) کو زیادہ کر دیا۔
میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں: امداد سے مراد: وہ بدلہ ہے جو نماز کے صلہ میں ملتا ہے۔ تو اللہ تعالی نے ہر نماز کو ۔ ایک کا صلہ دس مقرر فرمایا۔ تو وہ پانچ بھی ہے۔ اور پچاس بھی ہے۔ ظاہر میں پانچ ہے۔ باطن میں پچاس ہے۔ یعنی ثواب میں پچاس ہے۔ اور اگر جماعت کے ساتھ ادا کی جائے تو ہر ایک پچیس ہے۔ اور ہر ایک کا درجہ دس ہے۔ لہذا جماعت کے نماز کی تعداد، ہر ایک نماز ، دو سو پچاس ہے۔ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ) اور اللہ تعالی بڑافضل والا ہے اور جماعت کی کثرت، اور اس کے کمال سے بھی درجہ مختلف ہوتا رہتا ہے۔ اور حضور ، اورخشوع، اور اپنے نفس سے غائب ہونے ، اور حجاب کے اٹھنے کے مطابق درجہ بدلتا رہتا ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:۔
فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنْ جَزَاءً بِمَا كَانُو ايَعْمَلُونَ کوئی شخص نہیں جانتا ہے جو آنکھوں کی ٹھنڈک (انعامات ) ان کے لئے پوشیدہ کر کے رکھی گئی ہے۔ ان کے ان اعمال کے صلے میں جو وہ کرتے تھے
اور مقام کے مرتبہ کے مطابق بھی درجہ میں فرق ہوتا رہتا ہے۔ جیسے بیت اللہ خانہ کعبہ، اور مسجدنبوی ، اور مسجد اقصی۔ اور امام کے مرتبہ کے مطابق بھی درجے میں فرق ہوتا ہے:۔
مَنْ صَلَّى خَلْفَ مَغْفُورٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ جو شخص کسی بخشے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔ اس کو اللہ تعالی بخش دیتا ہے۔ واللہ تعالی اعلم ۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں