شکر رسیوں سے مضبوط (باب ہفتم)

شکر رسیوں سے مضبوط کے عنوان سے  باب  ہفتم میں  حکمت نمبر64 ہےیہ کتاب اِیْقَاظُ الْھِمَمْ فِیْ شَرْحِ الْحِکَمْ جو تالیف ہے عارف باللہ احمد بن محمد بن العجیبہ الحسنی کی یہ شرح ہے اَلْحِکَمُ الْعِطَائِیَہ ْجو تصنیف ہے، مشہور بزرگ عارف باللہ ابن عطاء اللہ اسکندری کی ان کا مکمل نام تاج الدین ابو الفضل احمد بن محمدعبد الکریم بن عطا اللہ ہے۔
اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے احسان کی مہربانیوں کے ذریعہ بڑھا۔ اس کے اوپر اس کے اس کرم و احسان کا شکر واجب ہے جو اس نے اس کی طرف بھیجا۔ ورنہ اس کی ناشکری اور نافرمانی کے باعث وہ کرم و احسان زائل ہو جائیں گے۔ چنانچہ مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے اپنے قول میں اس کی طرف اشارہ فرمایا:۔
64) مَنْ لَمْ يَشْكُرِ النِّعَمَ فَقَدْ تَعَرَّضَ لِزَوالِها، وَمَنْ شَكَرَها فَقَدْ قَيَّدَها بِعِقالِها.
جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا۔ اس نے اس کو زائل ہونے کے لئے پیش کر دیا۔ اور جس نے اس کا شکر ادا کیا۔ اس نے اس کو رسیوں سے مضبوط باندھ لیا۔ میں (احمد بن محمد بن العجیبہ ) کہتا ہوں:۔ حکیموں کے اقوال اس حقیقت پر متفق ہیں ۔ کہ شکر : موجود کو قید کرنے والا ۔اور غیر موجود کو شکار کرنے والا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا ہے : جس کو نعمتیں عطا کی گئیں ۔ اور اس نے شکر ادا نہیں کیا۔ تو وہ اس سے اس طرح چھین لی گئیں کہ وہ سمجھ بھی نہ سکا۔ تو جس نے نعمت کا شکر ادا کیا۔ اس نے اس کو مضبوط رسی سے باندھ لیا۔ اور جس نے اس کی ناشکری کی۔ اس نے اس کو زائل ہونے کے لئے پیش کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمۡۗ اللہ تعالیٰ اس حال کو نہیں بدلتا ہے جس کا تعلق قوم سے ہے۔ جب تک کہ وہ لوگ اس حال کو نہ بدلیں جس کا تعلق ان کے نفسوں سے ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کسی قوم سے وابستہ نعمتوں کو نہیں بدلتا ہے۔ جب تک وہ لوگ اپنے نفسوں سے وابستہ شکر کو نہ بدل دیں۔ اور شکر کا بدلنا: نافرمانی اور ناشکری میں انکا مشغول ہونا ہے۔
حضرت جنید نے فرمایا ہے:۔ شکر :۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ شکر : نعمت دینے والے سے اس کی نعمت کے سبب دل کا خوش ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا اثر جسم کے اعضاء تک پہنچ جائے ۔ تو وہ احکام کی ادائیگی میں کشادہ ہو جائیں ۔ اور منع سے رک جائیں ۔ لطائف المنن میں مصنف (ابن عطاء اللہ اسکندری ) نے فرمایا ہے۔ شکر کی تین قسمیں ہیں: اول:۔ زبان کا شکر ۔ دوم: ارکان یعنی جسمانی اعضاء کا شکر۔ سوم : قلب کا شکر ۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان کرنا اور ظاہر کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَأَمَّا بِنِعۡمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّث۔ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو۔
دوم: ارکان یعنی جسمانی اعضاء کا شکر ارکان کا شکر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرنا ہے۔ اِعْمَلُو الَ دَاوُدَ شُكْرًا ۔ اےداؤد کی اولاد شکر کی بجا آوری پر عمل کرو۔
سوم : قلب کا شکر یہ اعتراف کرنا ہے ۔ کہ کل نعمتیں خواہ وہ تم سے متعلق ہوں، یا دوسرےلوگوں سے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔ (وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ الله جو نعمت تمہارے ساتھ ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔
پہلی قسم کے شکر کے بارے میں حضرت نبی کریم ﷺ کی حدیث ہے۔ التَّحَدُّثُ بِالنَعْمِ شُكر نعمتوں کا بیان کرنا شکر ہے۔
دوسری قسم کے شکر کے بارے میں یہ حدیث ہے :- انَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ ، فَقِيلَ لَهُ الْتَكَلَّفُ كُلَّ ذَالِكَ وَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ: أَفَلَا أَكُونَ عَبْدًا شَكُورًا
حضرت نبی کریم ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے ۔ یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدم مبارک میں ورم ہو گیا۔ تو آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ یہ سب تکلیفیں کیوں گوارا فرماتے ہیں جب کہ آپ کے اگلے اور پچھلے سب گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیا ہے۔ تو حضرت نبی کر یم ﷺ نے فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ۔
حضرت ابو حازم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: آنکھوں کا شکر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: جب ان سے نیکی دیکھو۔ تو اس کا علان کرو ۔ اور جب ان سے کوئی برائی دیکھو تو چھپا لو ۔ پھر سائل نے دریافت کیا۔ کانوں کا شکر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر ان سے کوئی نیک بات سنو تو اسے محفوظ رکھو۔ اور اگر کوئی بری بات سنو تو اسے دفن کر دو ۔ پھر سائل نے دریافت کیا : ہاتھوں کا شکر کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جو چیز تمہاری نہیں اس کو نہ پکڑو ۔ اور اللہ تعالیٰ کے حق سے ان کو نہ روکو ۔ پھر سائل نے پوچھا۔ پیٹ کا شکر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کا نیچے کا حصہ صبر ہو، اور اوپر کا حصہ علم ہو۔ پھر اس نے پوچھا۔ شرمگاہ کا شکر کیا ہے؟ انہوں نے وہی جواب دیا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَٱلَّذِينَ هُمۡ لِفُرُوجِهِمۡ حَٰفِظُونَ ٥ إِلَّا عَلَىٰٓ أَزۡوَٰجِهِمۡ أَوۡ مَا مَلَكَتۡ أَيۡمَٰنُهُمۡ فَإِنَّهُمۡ غَيۡرُ ‌مَلُومِينَ جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ مگر اپنی بیویوں یا کنیزوں سے مباشرت کرنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ہے پھر اس نے دریافت کیا:۔ پاؤں کا شکر کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اگر کوئی ایسی چیز دیکھو جو قابل رشک ہو تو ان کو استعمال کرو۔ اور اگر ایسی چیز دیکھو جو باعث گناہ ہو تو ان کو روک لو ۔
اور تم کو معلوم ہونا چاہیئے ۔ کہ شکر کے معاملہ میں آدمی تین قسم کے ہیں ۔ 1عوام 2۔ خواص۔3 خواص الخواص ۔ عوام کا شکر : صرف نعمتوں پر ہوتا ہے اور خواص کا شکر نعمتوں اور زحمتوں دونوں پر ہوتا ہے اورخواص الخواص کا شکر نعمت اور زحمت کے مشاہدہ سے نعمت دینے والے کے مشاہدہ میں غائب ہونا ہے۔ اور ان نعمتوں کی جن پر شکر واقع ہوتا ہے۔ تین قسمیں ہیں: 1۔ دنیا دی۔ جیسے تندرستی، آرام، مال حلال ۔ 2۔ دینی جیسے علم ، عمل ، تقوی معرفت ۔ اخروی جیسے کم عمل پر بڑی بخشش کے ذریعے زیادہ ثواب ملنا۔ اور دینی نعمتوں میں ، سب سے بڑی نعمت جن پر شکر بجالانے کی تاکید کی جاتی ہے۔ اسلام ۔ ایمان۔ معرفت کی نعمت ہے اور اس کا شکر یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بغیر واسطہ اور اختیار اور طاقت کے احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ حَبَّبَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡإِيمَٰنَ وَزَيَّنَهُۥ فِي قُلُوبِكُمۡ وَكَرَّهَ إِلَيۡكُمُ ٱلۡكُفۡرَ وَٱلۡفُسُوقَ وَٱلۡعِصۡيَانَۚ لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایمان کو محبوب کیا۔ اور تمہارے قلوب میں اس کو زینت دی۔ اور تمہارے لئے کفر اور گناہ و نافرمانی کو مکروہ یعنی قابل نفرت کر دیا پھرفرمایا:- (فضلا مِّنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ)اللہ تعالیٰ کے فضل اور نعمت سے ایسا ہوا ۔
حضرت ابو طالب مکی رضی اللہ عنہ نے کچھ کلام کرنے کے بعد فرمایا :۔ اگر اللہ تعالیٰ ہمارے قلوب کو شک اور گمراہی کی طرف پھیر دے۔ جیسے ہماری نیتوں کو اعمال کی طرف پھیرتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں؟ اور کس کی پناہ لے سکتے ہیں؟ اور کس شے سے ہم اطمینان اور امید حاصل کر سکتے ہیں؟ تو یہ بڑی نعمتوں سے ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت : ۔ ایمان کی نعمت کا شکر ہے۔ اور معرفت سے جہل :۔ ایمان کی نعمت سے ایسی غفلت ہے جو سزا کا سبب ہے۔ اور ایمان کا دعوی اس طرح کرنا وہ معقول کسب ہے ۔ یا طاقت اور اختیار کی طاعت سے ہے۔ یہ ایمان کی نعمت کی ناشکری ہے۔ اور مجھے ایسے شخص سے ایمان کے سلب ہونے کا خوف ہے۔ جس نے ایسا وہم کیا ۔ کیونکہ اس نے ایمان کی نعمت کے شکر کو نا شکری سے بدل دیا۔


ٹیگز

اپنا تبصرہ بھیجیں